Posts

Best romentic Novel 2021 "dewani"

Image
 You can copy paste with writer name without any change . قسط نمبر 3لاسٹ #از_نشرح_عروج قسط۳  " پریشے "  آپ آ کر اسٹاف روم سے نوٹس لے لینا۔ سر ادریس جو  پریشےسے پہلے اترنے والی دو لڑکیوں کو کوئی کمنٹ کر کے ہنستے ہوئے اوپر چلے آ رہے تھے لڑکیاں بھی ہنستی ہوئی نیچے اتر گئی تھیں پریشےسے اچانک  مخاطب ہوئے۔ " ہوں۔۔ اوکے میں آ کرلیتی ہوں سر ہمایوں کی کلاس مس ہو جائے گی۔" "نہیں ایسا کریں آپ ابھی لے لیں میں نے جلدی جانا ہے" " وہ پھر بغیر سوچے  سرادریس کے پیچھے چل دی۔ پری نے اسٹاف روم کا دروازہ بغیر آواز کے کھولا اور خود ہی بند ہو گیا۔  دن گیارہ بجے کا ٹائم تھا سب ٹیچرز کلاسس میں تھے۔  سسرادریس الماری تک گیا۔  پینٹ ٹی شرٹ اوپر لانگ بلیک کوٹ  پہنے جسکی آستین کہنیوں تک مڑی ہوئی تھی پری سینے پہ ہاتھ باندھے  دروازے میں ہی کھڑی تھی۔ "پریشے میں آپ کو نوٹس تو دوں گا لیکن آپ کو  میری ایک بات ماننی پڑے گی" "کیا " پری نے اپنی گہری بھوری آنکھیں چھوٹی کی۔  "چھوٹی سی وش ہے میری فرینڈ بن جائیں گرل فرینڈ نہیں  بس اچھی سی فرینڈ" "کیا مطلب ہے آ...

best romentic novel 2021 "Dewani"

Image
 #ناول_دیوانی #از_نشرح_عروج کلاس شروع ہونے میں کچھ منٹ رہتے تھے۔ کلاس روم کافی بڑا تھا جس میں اسٹوڈینٹس کے الگ الگ بینچ سیڑھیوں کی طرح سے لگے ہوئے تھے۔ کلاس میں لڑکے لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔  سامنے والی دیوار پہ بڑی بڑی اسکرین لگی تھیں۔  وہ کلاس میں داخل ہوا سلام کیا تو کلاس میں ہوا کی طرح خاموشی  شروع سے لے کر آخر چھا گئی۔ مکمل خاموشی۔وہ ڈائس پہ آ کر کھڑا ہوا۔  سامنے والی ایک اسکرین پہ اس کی  ویڈیو ابھری۔ جو کے کلاس میں موجود سب اسٹوڈنٹس کو واضع دیکھائی دے رہی تھی۔    اس کا حلیہ عام سا تھا۔ سفید ٹی  شرٹ جینزمیں ملبوس تھا ۔ سیفد جوگر پہنے ہوئے تھے۔ منہ اور ناک ماسک میں چھپے ہوئے تھے۔ "اسٹوڈنٹس " وہ مائیک میں بولا تو چوتھی لائن میں رچسٹر پہ اسکچنگ کرتے پرشے کے ہاتھ رکے۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ اسکے بھورے بالوں سے ایک منٹ میں اسے پہچان گئی۔ " اومائی گارڈ" اس نے بے ساختہ سرگوشی کی۔ لیکن وہ ماسک میں تھی اور سر ہمایوں اسے پہچانتے بھی نہیں تھے۔اسی لیے وہ نارمل ہو گئی۔ ان کی پہلی براہ راست کلاس تھی سو وہ کچھ کمپیوٹر کی بیسکس اور کچھ کووڈ-1...

new best romentic novel 2021 "dewani"

Image
 #ناول_دیوانی قسط نمبر1 #از_نشرح_عروج نا جانے کب ختم ہو گا یہ کرونا کا رونا اوپر سے یہ آن لائن کلاسس ہمارے سر پہ لا کر بیٹھا دی ہیں۔ "یار لائبہ تم نے ہینڈ فری تو نہیں دیکھے میرے" اف دو منٹ رہتے ہیں کلاس اسٹارٹ ہونے میں۔ "ہاں تکیے کے نیچے تو ہیں" لائبہ جو بالوں کو اسٹریٹ کرنے میں مصروف تھی ایک دم چونک کر بولی۔ "کب سے ڈھونڈ رہی ہوں بندہ بتا ہی دیتا ہے۔" پری نے لپک کر ہینڈ فری لیے اور وہیں بیڈ پہ بیٹھے بیٹھے لیپٹاپ لیا اور اس میں لگا کر اپنے کانوں میں لگائے۔  اپنے کھلے ہاف گھنگھرلے بالوں کو پیچھے کر کے جوڑے کی شکل دی۔ اور آن لائن کلاس کے لیے  سٹنگ کرنے لگی کافی سارے اسٹوڈینٹس آ چکے تھے کچھ سے اس نے چیٹنگ کی جس کے بعداسے پتا چلا آج کوئی نیو ٹیچر آ رہے ہیں۔ جنکی آمد ابھی تک نہیں ہوئی۔ اس نے اس بات پہ منہ بسورا۔کیونکہ جب ٹیچر چینج ہوتا تھا تو اسے کچھ سمجھ نہیں آتا  ابھی تک اسے اپنے کلاس فیلوز سے پتہ چل چکا تھا کہ یہ ٹیچر کچھ ماہ کے لیے ہائر کیا گیا ہے۔ ٹیچر اسکرین پہ نمودار ہوا ابھی وہ بھی مائیک اسیٹنگ میں مصروف تھا۔ "یار لائبہ ادھر آؤ ادھر آؤ  اپنا نیا ٹچی...

Article 2020.

Image
 برمودا ٹرائی انیگل نشرح عروج  (اسلام آباد)  انسان کا شعور خزاں کے خشک پتوں کی طرح اس کے وجود سے چھڑ  کر زمین پہ بکھرتا جا رہا ہے اور عجیب بات تو یہ ہے وہی شعور انسان اپنے ہی قدموں تلے روند کر اسے ریزہ ریزہ کر رہا ہے.  کل ہی کی تو بات ہے کسی نے ایک فرشتے کو زندہ جلا دیا.  فرشتوں کے سامنے بہشت کو روند دیا گیا. خدائے مجازی کے سامنے  اس کی شریک حیات کو رسوا کیا گیا. سوچیں , خیال یہاں تک کہ وہم و گماں بھی منجمد ہیں اور خُزن,ملال,افسوس و تعجب سے یہ کہہ رہے ہیں کاش اللہ تبارک تعالٰی نے انسان کو عقل نہ عطا کی ہوتی. ہراسمنٹ کے قانون کو پاس ہوئے دس سال بیت گئے لیکن آج بھی تربیت گاہوں میں تربیت کار نئی نسل کی  تربیت ہراس کر کے کسی نئے ہی انداز میں کر رہے ہیں. وہ تربیت کار چاہیے یونیورسٹی کا پروفیسر ہو یا سینے میں قرآن لیے عالم دین. اپنی ہی نسل کے لیے نئے معاشرے کی تشکیل کیے جا رہے ہیں. کیا ان کی نسلیں آسمانوں پہ پروان چڑھیں گی؟؟ یا یہ لوگ اس گماں میں ہیں کہ موت کے بعد قرض صرف پیسوں کا ہوتا ہے جو ان کی نسل  یعنی کے ان کےوجود کا حصہ باآسانی چکا دے گی.ہر ...

2020 motorway Article.

Image
 برمودا ٹرائی انیگل نشرح عروج  (اسلام آباد)  انسان کا شعور خزاں کے خشک پتوں کی طرح اس کے وجود سے چھڑ  کر زمین پہ بکھرتا جا رہا ہے اور عجیب بات تو یہ ہے وہی شعور انسان اپنے ہی قدموں تلے روند کر اسے ریزہ ریزہ کر رہا ہے.  کل ہی کی تو بات ہے کسی نے ایک فرشتے کو زندہ جلا دیا.  فرشتوں کے سامنے بہشت کو روند دیا گیا. خدائے مجازی کے سامنے  اس کی شریک حیات کو رسوا کیا گیا. سوچیں , خیال یہاں تک کہ وہم و گماں بھی منجمد ہیں اور خُزن,ملال,افسوس و تعجب سے یہ کہہ رہے ہیں کاش اللہ تبارک تعالٰی نے انسان کو عقل نہ عطا کی ہوتی. ہراسمنٹ کے قانون کو پاس ہوئے دس سال بیت گئے لیکن آج بھی تربیت گاہوں میں تربیت کار نئی نسل کی  تربیت ہراس کر کے کسی نئے ہی انداز میں کر رہے ہیں. وہ تربیت کار چاہیے یونیورسٹی کا پروفیسر ہو یا سینے میں قرآن لیے عالم دین. اپنی ہی نسل کے لیے نئے معاشرے کی تشکیل کیے جا رہے ہیں. کیا ان کی نسلیں آسمانوں پہ پروان چڑھیں گی؟؟ یا یہ لوگ اس گماں میں ہیں کہ موت کے بعد قرض صرف پیسوں کا ہوتا ہے جو ان کی نسل  یعنی کے ان کےوجود کا حصہ باآسانی چکا دے گی.ہر ...

Best Motivational Article 2020 " Name of Legendary Angel" By Nashra urooj

Image
  Writer Nashra urooj            Name of Legendary Angel کیا ہے  " نیم آف لیجنڈری اینجل" آپ کو کون بتاتا ہے پانی بے رنگ ہے. کون بتاتا ہے آپ کو آپ کے سامنے پڑا پتھر نرم نہیں بلکہ ٹھوس ہے. کون بتاتا ہے سامنے کھائی ہے آپ گرئیں گے  اور چوٹ آئے گی. کیسے بغیر چھوئے آپ کی نظر ہر طرح کے رنگ کے بارے میں بتاتی جاتی ہے کیسے؟ کبھی سوچا ہے؟ کیا دنیا میں کچھ ایسا بھی ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے ہاں ضرور ہمارے اردگرد پھیلی ہماری سوچ کی لہریں. انسانی سوچ کو دی نیم آف لیجنڈری اینجل بھی کہا جاتا ہے.  ایک انسان وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ایک کام کے ہونے پہ اسے مکمل یقین اورامید ہے تو وہ کام ہو کر رہے گا.کہا جاتا ہے انسان کی زندگی کے زیادہ تر لمحات اس کی اپنی سوچ پہ منحصر ہوتے ہیں.خیالات تصورات کو جنم دیتے ہیں اور تصورات حقیقت میں بدل جاتے ہیں.   مثبت  اندازِ فکر رکھنے والے لوگوں کی سوچ ایک تندرست زندگی کی ضامن  ہوتی ہے.  وہ مستقبل کو پرجوش خوش آمدید کہتے ہیں. اسے حال بنا کر اس پہ محنت کرتے ہیں. خوشگوار طریقے سے اس...

Zehnab ki gurya uadas hai by Nashra urooj published in Magazine 2018

Image
 "میری  تحریروں میں سے   ایک مختصر کہانی جو 2018میں "فخر عدالت" میگزین میں شائع ہوئی  .." #زینب_کی_گڑیا_اداس_ہے راٸٹر نشرح_عروج دروازہ پہ پردہ لٹک رہا تها جو بار بار ہوا کہ زور سے اڑ رہا تها.باہر محلے میں خاموشی تهی وہ صحن میں بچهی چارپائ پہ لیٹا آسمان کو گهور رہا تها.ایک سرخ سینے والی چڑیا اس کے سر پہ چہچہا رہی تهی.  آصفہ کچن میں ہانڈی بنانے میں مصروف تهی. تهوڑی دیر پہلے روتی اس کی آٹھ اور نو سالہ بیٹیاں اب چپ کر کے کمرے کے دروازہ کی چوکهٹ پہ بیٹھی تھی وہ باہر جانے کی ضد کر رہی تهی.اس کی محلے ہی میں ایک دکان تهی جس سے کمائ اچهی ہو جاتی تهی اور وہ اپنے گهر والوں کا پیٹ بهرتااور کبهی فاقوں تک کی نوبت آ جاتی. یہی قدرت کا قانون بهی تها.وہ زیادہ پڑها لکها تو نہ تها پر زمانہ کی اونچ نیچ کو اچهی طرح سمجهتا تها.وہ بهی جو اس سال زمانہ نے قیامت دیکهائ تهی.وہ اپنی بچیوں کے بارے میں پریشان تها کیا وہ اس محلے میں رہ کر کیا اپنی بچیوں کو علٰی تعلیم دے سکے گا اللہ تعالیٰ نے اسے صرف بیٹیاں ہی دی تهی اور ملک کے بگڑتے حالات اسے اور پریشان کر رہے تهے.وہ ہاتھ سر کے نیچے ...
Image

بے شک

Image