#ناول_دیوانی #از_نشرح_عروج کلاس شروع ہونے میں کچھ منٹ رہتے تھے۔ کلاس روم کافی بڑا تھا جس میں اسٹوڈینٹس کے الگ الگ بینچ سیڑھیوں کی طرح سے لگے ہوئے تھے۔ کلاس میں لڑکے لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ سامنے والی دیوار پہ بڑی بڑی اسکرین لگی تھیں۔ وہ کلاس میں داخل ہوا سلام کیا تو کلاس میں ہوا کی طرح خاموشی شروع سے لے کر آخر چھا گئی۔ مکمل خاموشی۔وہ ڈائس پہ آ کر کھڑا ہوا۔ سامنے والی ایک اسکرین پہ اس کی ویڈیو ابھری۔ جو کے کلاس میں موجود سب اسٹوڈنٹس کو واضع دیکھائی دے رہی تھی۔ اس کا حلیہ عام سا تھا۔ سفید ٹی شرٹ جینزمیں ملبوس تھا ۔ سیفد جوگر پہنے ہوئے تھے۔ منہ اور ناک ماسک میں چھپے ہوئے تھے۔ "اسٹوڈنٹس " وہ مائیک میں بولا تو چوتھی لائن میں رچسٹر پہ اسکچنگ کرتے پرشے کے ہاتھ رکے۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ اسکے بھورے بالوں سے ایک منٹ میں اسے پہچان گئی۔ " اومائی گارڈ" اس نے بے ساختہ سرگوشی کی۔ لیکن وہ ماسک میں تھی اور سر ہمایوں اسے پہچانتے بھی نہیں تھے۔اسی لیے وہ نارمل ہو گئی۔ ان کی پہلی براہ راست کلاس تھی سو وہ کچھ کمپیوٹر کی بیسکس اور کچھ کووڈ-1...
Comments